غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے

مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ ہے

نیند آتی ہے نہ بیداری سے رغبت ہے مجھے
دیکھنے والوں پہ میری بے کلی آئینہ ہے

جِی میں جو آتا ہے کہہ دیتا ہوں اپنے آپ سے
میرے مدّاحوں پہ میری شاعری آئینہ ہے

رات اور دن کا تناسب ایک سا ہے میرے ہاں
چھائوں بھی آئینہ میری، دھوپ بھی آئینہ ہے

جاگنے والوں کو نسبت ہے مِری ظلمات سے
نیند کے ماتوں پہ میری روشنی آئینہ ہے

ٹِکٹِکی باندھے ہوئے تکتے ہیں اپنے آپ کو
روبرو اِک آئنے کے پھر کوئی آئینہ ہے

سرخ ہونٹوں نے غنودہ کر دیا گلدان کو
اُس کی آنکھوں کی دمک سے نقرئی آئینہ ہے

کیا اُسے معلوم ہے مَیں کس قدر مشکل میں ہوں
کیا مِری حالت کسی پر واقعی آئینہ ہے

چاک پر کُھلتا ہے ساجدؔ غیب کی دنیا کا بھید
جو کبھی آئینہ گر ہے اور کبھی آئینہ ہے

Related posts

Leave a Comment